June 29, 2009 by Umar Faruki
تم کو دیکھے ہوئے گزرے ہیں زمانے آؤ
عمر رفتہ کا کوئ خواب دکھانے آؤ
میں سرابوں میں بھٹکتا رہوں صحرا صحرا
تم میری پیاس کو آئنہ دکھانے آؤ
اجنبیت نے کئ داغ دئے ہیں دل کو
آشنائ کا کوئ زخم لگانے آؤ
ملنا چاہا تو کئے تم نے بہانے کیا کیا
اب کسی روز نہ ملنے کے بہانے آؤ
Posted in Urdu Poetry | Leave a Comment »
April 2, 2009 by Umar Faruki
میری تصویر میں رنگ اور کسی کا تو نہیں
گھیر لیں مجھ کو سب آنکھیں ، میں تماشا تو نہیں
زندگی تجھ سے ہر اک سانس پہ سمجھوتا کروں
شوق جینے کا ہے مجھ کو ، مگر اتنا تو نہیں
روح کو درد ملا ، درد کو آنکھیں نہ ملیں
تجھ کو محسوس کیا ہے ، تجھے دیکھا تو نہیں
سوچتے سوچتے دل ڈوبنےلگتا ہے مرا
ذہن کی تہ میں مظفر کوئی دریا تو نہیں
مظفر وارثی
Posted in Urdu Poetry | 1 Comment »
February 15, 2009 by Umar Faruki
زندگی سے ڈرتے ہو؟
زندگی تو تم بھی ہو، زندگی تو ہم بھی ہیں!
آدمی سے ڈرتے ہو؟
آدمی تو تم بھی ہو، آدمی تو ہم بھی ہیں!
آدمی زباں بھی ہے، آدمی بیاں بھی ہے،
اس سے تم نہیں ڈرتے!
حرف اور معنی کے رشتہ ہائے آہن سے، آدمی ھے وابستہ
آدمی کے دامن سے زندگی ہے وابستہ
اس سے تم نہیں ڈرتے!
“ان کہی” سے ڈرتے ہو
جو ابھی نہیں آئی، اس گھڑی سے ڈرتے ہو
اس گھڑی کی آمد کی آگہی سے ڈرتے ہو!
پہلے بھی تو گزرے ہیں،
دور نارسائی کے، “بے ریا” خدائی کے
پھر بھی یہ سمجھتے ہو، ہیچ آرزو مندی
یہ شب زباں بندی، ہے رہ ِخداوندی!
تم مگر یہ کیا جانو،
لب اگر نہیں ہلتے، ہاتھ جاگ اٹھتے ہیں
ہاتھ جاگ اٹھتے ہیں، راہ کا نشاں بن کر
نور کی زباں بن کر
ہاتھ بول اٹھتے ہیں، صبح کی اذاں بن کر
روشنی سے ڈرتے ہو؟
روشنی تو تم بھی ہو، روشنی تو ہم بھی ہیں،
روشنی سے ڈرتے ہو!
شہر کی فصیلوں پر
دیو کا جو سایہ تھا پاک ہو گیا آخر
رات کا لبادہ بھی
چاک ہو گیا آخر، خاک ہو گیا آخر
اژدہام ِانساں سے فرد کی نوا آئی
ذات کی صدا آئی
راہِ شوق میں جیسے، راہرو کا خوں لپکے
اک نیا جنوں لپکے!
آدمی چھلک اٹّھے
آدمی ہنسے دیکھو، شہر پھر بسے دیکھو
تم ابھی سے ڈرتے ہو؟
ن م راشد
Posted in Urdu Poetry | Leave a Comment »
January 24, 2009 by Umar Faruki
کھلی جو آنکھ تو وہ تھا نہ وہ زمانہ تھا
بہکتی آگ تھی، تنہائ تھی، فسانہ تھا
غموں نے بانٹ لیا ہے مجھے یوں آپس میں
کہ جیسے میں کوئ لوٹا ہوا خزانہ تھا
یہ کیا کہ چند ہی قدموں پہ تھک کے بیٹھ گئے
تمہیں تو ساتھ میرا دور تک نبھانا تھا
مجھے جو میرے لہو میں ڈبو کے گزرا ہے
وہ کوئ غیر نہیں یار اک پرانا تھا
Posted in Urdu Poetry | 1 Comment »
August 19, 2008 by Umar Faruki
تجھ سے ملنے کی سزا دیں گے تیرے شہر کے لوگ
یہ وفاؤں کا سلہ دیں گے تیرے شہر کے لوگ
کیا خبر تھی تیرے ملنے پہ قیامت ہو گی
مجھ کو دیوانہ بنا دیں گے تیرے شہر کے لوگ
تیری نظروں سے گرانے کے لیے جان حیات
مجھ کو مجرم بھی بنا دیں گے تیرے شہر کے لوگ
کہ کے دیوانہ مجھے مار رہے ہیں پتھر
اور کیا اس سے سوا دیں گے تیرے شہر کے لوگ
Posted in Urdu Poetry | 2 Comments »
June 28, 2008 by Umar Faruki
تجھی سے ابتدا ہے، تو ہی اک دن انتہا ہو گا
صدائے ساز ہوگی اور نہ ساز بے صدا ہو گا
ہمیں معلوم ہے ہم سے سنو محشر میں کیا ہو گا
سب اس کو دیکھتے ہونگے وہ ہم کو دیکھتا ہو گا
جہنم ہو کہ جنت جو بھی ہو گا فیصلہ ہو گا
یہ کیا کم ہے ہمارا اور ان کا سامنا ہو گا
ازل ہو یا ابد دونوں اسیر زلف ِ حضرت ہیں
جدھر نظریں اٹھاؤ گے یہی اک سلسلہ ہو گا
جگر کا ہاتھ ہو گا حشر میں اور دامن حضرت
شکایت ہو کہ شکوہ جو بھی ہو گا برملا ہو گا
جگر مراد آبادی
Posted in Urdu Poetry | Leave a Comment »
June 19, 2008 by Umar Faruki
شاعرِ ِفطرت ہوں میں جب فکر فرماتا ہوں میں
روح بن کر زرے زرے میں سما جاتا ہوں میں
آ کہ تجھ بن اس طرح اے دوست گھبراتا ہوں میں
جیسے ہر شے میں کسی شے کی کمی پاتا ہوں میں
تیری محفل تیرے جلوے پھر تقاذا کیا ضرور
لے اٹھا جاتا ہوں میں لے چلا جاتا ہوں میں
ہائے ر ِی مجبوریاں ترک ِمحبت کے لئے
مجھ کو سمجھاتے ہیں وہ اور ان کو سمجھاتا ہوں میں
ایک دل ہے اور طوفان ِحوادث اے جگر
ایک شیشا ہے کہ ہر پتھر سے ٹکراتا ہوں میں
جگر مراد آبادی
Posted in Urdu Poetry | Leave a Comment »
June 19, 2008 by Umar Faruki
طبیعت ان دنوں بیگانہ ِغم ہوتی جاتی ہے
میرے حصے کی گویا ہر خوشی کم ہوتی جاتی ہے
قیامت کیا یہ اے حسن ِدو عالم ہوتی جاتی ہے
کہ محفل تو وہی ہے دلکشی کم ہوتی جاتی ہے
وہی ہے شاہد و ساقی مگر دل بجھتا جاتا ہے
وہی ہے شمعہ لیکن روشنی کم ہوتی جاتی ہے
وہی ہے زندگی لیکن جگر یہ حال ہے اپنا
کہ جیسے زندگی سے زندگی کم ہوتی جاتی ہے
جگر مراد آبادی
Posted in Urdu Poetry | Leave a Comment »
June 19, 2008 by Umar Faruki
یہ جو قول و قرار ہے کیا ہے
شک ہے یا اعتبار ہے کیا ہے
یہ جو اٹھتا ہے دل میں رہ رہ کر
ابر ہے یا غبار ہے کیا ہے
زیر لب اک جھلک تبسم کی
برق ہے یا شرار ہے کیا ہے
کوئ دل کا مقام سمجھاؤ
گھر ہے یا رہ گزار ہے کیا ہے
نہ کھلا یہ کہ، سامنا تیرا
دید ہے، انتظار ہے کیا ہے
Posted in Urdu Poetry | Leave a Comment »
May 6, 2008 by Umar Faruki
تین منظر
تصور
شوخیاں مضطر نگاہِ دید سرشار میں
عشرتیں خوابیدہ رنگِ غازہ ء رخسار میں
سرخ ہونٹوں پر تبسم کی ضیائیں جس طرح
یاسمن کے پھول ڈوبے ہوں مے گلنار میں
سامنا
چھنتی ہوئی نظروں سے جذبات کی دنیائیں
بے خوابیاں، افسانے، مہتاب، تمنائیں
کچھ الجھی ہوئی باتیں، کچھ بہکے ہوئے نغمے
کچھ اشک جو آنکھوں سے بے وجہ چھلک جائیں
رخصت
فسردہ رخ، لبوں پر اک نیاز آمیز خاموشی
تبسم مضمحل تھا، مرمریں ہاتھوں میں لرزش تھی
وہ کیسی بے کسی تھی تیری پر تمکیں نگاہوں میں
وہ کیا دکھ تھا تری سہمی ہوئی خاموش آہوں میں
فیض احمد فیض
Posted in Urdu Poetry | 1 Comment »