فرض کرو ہم اہلِ وفا ہوں، فرض کرو دیوانے ہوں

فرض کرو ہم اہلِ وفا ہوں، فرض کرو دیوانے ہوں
فرض کرو یہ دونوں باتیں جھوٹی ہوں افسانے ہوں

فرض کرو یہ جی کی بپتا جی سے جوڑ سنائی ہو
فرض کرو ابھی اور ہو اتنی،آدھی ہم نے چھپائی ہو

فرض کرو تمھیں خوش کرنے کے ڈھونڈے ہم نے بہانے ہوں
فرض کرو یہ نین تمھارے سچ مچ کے میخانے ہوں

فرض کرو یہ روگ ہو جھوٹا، جھوٹی پیت ہماری ہو
فرض کرو اس پیت کے روگ میں سانس بھی ہم پہ بھاری ہو

فرض کرو یہ جوگ بجوگ کا ہم نے ڈھونگ رچایا ہو
فرض کرو بس یہی حقیقت، باقی سب کچھ مایا ہو۔

ابنِ انشاء


تم کو دیکھے ہوئے


تم کو دیکھے ہوئے گزرے ہیں زمانے آؤ
عمر رفتہ کا کوئ خواب دکھانے آؤ


میں سرابوں میں بھٹکتا رہوں صحرا صحرا
تم میری پیاس کو آئنہ دکھانے آؤ


اجنبیت نے کئ داغ دئے ہیں دل کو
آشنائ کا کوئ زخم لگانے آؤ


ملنا چاہا تو کئے تم نے بہانے کیا کیا
اب کسی روز نہ ملنے کے بہانے آؤ



میری تصویر میں رنگ اور کسی کا تو نہیں


میری تصویر میں رنگ اور کسی کا تو نہیں
گھیر لیں مجھ کو سب آنکھیں ، میں تماشا تو نہیں


زندگی تجھ سے ہر اک سانس پہ سمجھوتا کروں
شوق جینے کا ہے مجھ کو ، مگر اتنا تو نہیں


روح کو درد ملا ، درد کو آنکھیں نہ ملیں
تجھ کو محسوس کیا ہے ، تجھے دیکھا تو نہیں


سوچتے سوچتے دل ڈوبنےلگتا ہے مرا
ذہن کی تہ میں مظفر کوئی دریا تو نہیں


مظفر وارثی


زندگی سے ڈرتے ہو؟


زندگی سے ڈرتے ہو؟
زندگی تو تم بھی ہو، زندگی تو ہم بھی ہیں!

آدمی سے ڈرتے ہو؟
آدمی تو تم بھی ہو، آدمی تو ہم بھی ہیں!
آدمی زباں بھی ہے، آدمی بیاں بھی ہے،
اس سے تم نہیں ڈرتے!
حرف اور معنی کے رشتہ ہائے آہن سے، آدمی ھے وابستہ
آدمی کے دامن سے زندگی ہے وابستہ
اس سے تم نہیں ڈرتے!

“ان کہی” سے ڈرتے ہو
جو ابھی نہیں آئی، اس گھڑی سے ڈرتے ہو
اس گھڑی کی آمد کی آگہی سے ڈرتے ہو!


پہلے بھی تو گزرے ہیں،
دور نارسائی کے، “بے ریا” خدائی کے
پھر بھی یہ سمجھتے ہو، ہیچ آرزو مندی
یہ شب زباں بندی، ہے رہ ِخداوندی!
تم مگر یہ کیا جانو،
لب اگر نہیں ہلتے، ہاتھ جاگ اٹھتے ہیں
ہاتھ جاگ اٹھتے ہیں، راہ کا نشاں بن کر
نور کی زباں بن کر
ہاتھ بول اٹھتے ہیں، صبح کی اذاں بن کر

روشنی سے ڈرتے ہو؟
روشنی تو تم بھی ہو، روشنی تو ہم بھی ہیں،
روشنی سے ڈرتے ہو!


شہر کی فصیلوں پر
دیو کا جو سایہ تھا پاک ہو گیا آخر
رات کا لبادہ بھی
چاک ہو گیا آخر، خاک ہو گیا آخر
اژدہام ِانساں سے فرد کی نوا آئی
ذات کی صدا آئی
راہِ شوق میں جیسے، راہرو کا خوں لپکے
اک نیا جنوں لپکے!
آدمی چھلک اٹّھے
آدمی ہنسے دیکھو، شہر پھر بسے دیکھو
تم ابھی سے ڈرتے ہو؟


ن م راشد


کھلی جو آنکھ


کھلی جو آنکھ تو وہ تھا نہ وہ زمانہ تھا
بہکتی آگ تھی، تنہائ تھی، فسانہ تھا


غموں نے بانٹ لیا ہے مجھے یوں آپس میں
کہ جیسے میں کوئ لوٹا ہوا خزانہ تھا


یہ کیا کہ چند ہی قدموں پہ تھک کے بیٹھ گئے
تمہیں تو ساتھ میرا دور تک نبھانا تھا


مجھے جو میرے لہو میں ڈبو کے گزرا ہے
وہ کوئ غیر نہیں یار اک پرانا تھا



تجھ سے ملنے کی سزا دیں گے تیرے شہر کے لوگ


تجھ سے ملنے کی سزا دیں گے تیرے شہر کے لوگ
یہ وفاؤں کا سلہ دیں گے تیرے شہر کے لوگ
کیا خبر تھی تیرے ملنے پہ قیامت ہو گی
مجھ کو دیوانہ بنا دیں گے تیرے شہر کے لوگ
تیری نظروں سے گرانے کے لیے جان حیات
مجھ کو مجرم بھی بنا دیں گے تیرے شہر کے لوگ
کہ کے دیوانہ مجھے مار رہے ہیں پتھر
اور کیا اس سے سوا دیں گے تیرے شہر کے لوگ


تجھی سے ابتدا ہے، تو ہی اک دن انتہا ہو گا


تجھی سے ابتدا ہے، تو ہی اک دن انتہا ہو گا
صدائے ساز ہوگی اور نہ ساز بے صدا ہو گا
ہمیں معلوم ہے ہم سے سنو محشر میں کیا ہو گا
سب اس کو دیکھتے ہونگے وہ ہم کو دیکھتا ہو گا
جہنم ہو کہ جنت جو بھی ہو گا فیصلہ ہو گا
یہ کیا کم ہے ہمارا اور ان کا سامنا ہو گا
ازل ہو یا ابد دونوں اسیر زلف ِ حضرت ہیں
جدھر نظریں اٹھاؤ گے یہی اک سلسلہ ہو گا
جگر کا ہاتھ ہو گا حشر میں اور دامن حضرت
شکایت ہو کہ شکوہ جو بھی ہو گا برملا ہو گا


جگر مراد آبادی


طبیعت ان دنوں


طبیعت ان دنوں بیگانہ ِغم ہوتی جاتی ہے
میرے حصے کی گویا ہر خوشی کم ہوتی جاتی ہے
قیامت کیا یہ اے حسن ِدو عالم ہوتی جاتی ہے
کہ محفل تو وہی ہے دلکشی کم ہوتی جاتی ہے
وہی ہے شاہد و ساقی مگر دل بجھتا جاتا ہے
وہی ہے شمعہ لیکن روشنی کم ہوتی جاتی ہے
وہی ہے زندگی لیکن جگر یہ حال ہے اپنا
کہ جیسے زندگی سے زندگی کم ہوتی جاتی ہے


جگر مراد آبادی


یہ جو قول و قرار ہے


یہ جو قول و قرار ہے کیا ہے
شک ہے یا اعتبار ہے کیا ہے
یہ جو اٹھتا ہے دل میں رہ رہ کر
ابر ہے یا غبار ہے کیا ہے
زیر لب اک جھلک تبسم کی
برق ہے یا شرار ہے کیا ہے
کوئ دل کا مقام سمجھاؤ
گھر ہے یا رہ گزار ہے کیا ہے
نہ کھلا یہ کہ، سامنا تیرا
دید ہے، انتظار ہے کیا ہے


تین منظر

تین منظر


تصور

شوخیاں مضطر نگاہِ دید سرشار میں
عشرتیں خوابیدہ رنگِ غازہ ء رخسار میں
سرخ ہونٹوں پر تبسم کی ضیائیں جس طرح
یاسمن کے پھول ڈوبے ہوں مے گلنار میں


سامنا

چھنتی ہوئی نظروں سے جذبات کی دنیائیں
بے خوابیاں، افسانے، مہتاب، تمنائیں
کچھ الجھی ہوئی باتیں، کچھ بہکے ہوئے نغمے
کچھ اشک جو آنکھوں سے بے وجہ چھلک جائیں


رخصت

فسردہ رخ، لبوں پر اک نیاز آمیز خاموشی
تبسم مضمحل تھا، مرمریں ہاتھوں میں لرزش تھی
وہ کیسی بے کسی تھی تیری پر تمکیں نگاہوں میں
وہ کیا دکھ تھا تری سہمی ہوئی خاموش آہوں میں



فیض احمد فیض


Follow

Get every new post delivered to your Inbox.