شاید
پھر اسی رہ گزر پر شاید
ہم کبھی مل سکیں مگر شاید
جان پہچان سے بھی کیا ہو گا
پھر بھی اے دوست غور کر شاید
منتظر جن کے ھم رھے ان کو
مل گیے اور ہمسفر شاید
جو بھی بچھڑے ہیں کب ملیں ہیں فراز
پھر بھی تو انتظار کر شاید
April 18, 2007 by Umar Faruki
شاید
پھر اسی رہ گزر پر شاید
ہم کبھی مل سکیں مگر شاید
جان پہچان سے بھی کیا ہو گا
پھر بھی اے دوست غور کر شاید
منتظر جن کے ھم رھے ان کو
مل گیے اور ہمسفر شاید
جو بھی بچھڑے ہیں کب ملیں ہیں فراز
پھر بھی تو انتظار کر شاید