Feeds:
Posts
Comments

Archive for May, 2007

شبِ غم  اے  میرے  اللہ  بسر  بھی ہو گی
رات ہی رات رہے گی کے سحر بھی ہو گی

میں یہ سنتا ہوں کہ وہ دنیا کی خبر  رکھتے ہیں
جو یہ سچ ہے تو  انہیں میری  خبر  بھی ہو گی

چین ملنے سے  ہے ان کے نہ جدا  ہونے سے
آخر  اے  عشق  کسی طرح  بسر  بھی ہو گی

سیماب [...]

Read Full Post »

اب کے ہم بچھڑے تو شائد کبھی خوابوں میں ملیں
جس  طرح  سوکھے ہوئے  پھول  کتابوں  میں ملیں

ڈھونڈ  اجڑے  ہوئے  لوگوں  میں  وفا  کے  موتی
یہ  خزانے تجھے،   ممکن ہے،  خرابوں‌ میں ملیں

غمِ    دنیا   بھی   غمِ    یار   میں‌   شامل   کر   لو
نشہ  بڑھتا  ہے   شرابیں  جو شرابوں  میں  ملیں

تو   خدا   ہے،   نہ [...]

Read Full Post »

بات نکلے گی تو پھر دور تلک جائے گی
لوگ بے وجہ اداسی کا سب پوچھیں گے
یہ بھی پوچھیں گے کہ تم اتنی پریشاں کیوں ہو
انگلیاں اٹھیں گی سوکھے ہوئے بالوں کی طرف
اک نظر دیکھیں گے گزرے ہوئے سالوں‌ کی طرف
چوڑیوں پر بھی کئ طنز کئے جائیں گے
کانپتے ہاتھوں پہ بھی فقرے کسے جائیں گے
لوگ ظالم [...]

Read Full Post »

مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ
مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ
میں نے سمجھا تھا کہ تو ہےتو درخشاں ہے حیات
تیرا غم ہے تو غمِ دہر کا جھگڑا کیا ہے
تیری صورت سے ہے عالم میں بہاروں کو ثبات
تیرے آنکھوں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے؟
تو جو مل جائے تو [...]

Read Full Post »

گل ہوئی جاتی ہے افسردہ سلگتی ہوئی شام
دھل کے نکلے گی ابھی چشمۂ مہتاب سے رات
اور مشتاق نگاہوں کی سنی جائے گی
اور ان ہاتھوں سے مس ہوں گے یہ ترسے ہوئے ہاتھ
ان کا آنچل ہے، کہ رخسار، کہ پیراہن ہے
کچھ تو ہے جس سے ہوئی جاتی ہے چلمن رنگیں
جانے اس زلف کی موہوم گھنی [...]

Read Full Post »

دشتِ تنہائی  میں،  اے  جانِ جہاں،  لرزاں  ہیں
تیری  آواز  کے  سائے،  ترے ہونٹوں  کے  صراب
دشتِ تنہائی میں‌، دوری کے  خس و خاک  تلے
کھل  رہے  ہیں‌،  ترے پہلو کے سمن  اور گلاس

اٹھ رہی ہے کہیں قربت سے تری سانس کی آنچ
اپنی  خشبو  سے  سلگتی ہوئی، مدھم  مدھم
دور    افق    پار،    چمکتی     ہوئی [...]

Read Full Post »

آ کہ وابستہ ہیں اس حسن کی یادیں تجھ سے
جس نے اس دل کو پری خانہ بنا رکھا تھا
جس کی الفت میں بھلا رکھی تھی دنیا ہم نے
دہر کو دہر کا [...]

Read Full Post »

کہاں آ کے رکنے تھے راستے! کہاں‌موڑ تھا! اسے بھول جا
جو مل گیا اسے یاد رکھ، جو نہیں ملا اسے بھول جا
وہ تیرے نصیب کی بارشیں‌کسی اور چھت پہ برس گیںٔ
دلِ بے خبر میری بات سن، اسے بھول جا، اسے بھول جا
میں‌تو گم تھا تیرے دھیان میں، تری آس میں‌ تیرے گمان میں
صبا کہ گئی [...]

Read Full Post »

بہت دنوں کی بات ہے
فِضا کو یاد بھی نہیں
یہ بات آج کی نہیں
بہت دنوں کی بات ہے
شباب پر بہار تھی
فضا بھی خوشگوار تھی
نہ جانے کیوں مچل پرا
میں اپنے گھر سے چل پڑا
کسی نے مجھ کو روک کر
بڑی ادا سے ٹوک کر
کہا تھا لوٹ‌ آئے
میری قسم نہ جائے
پر مجھے خبر نہ تھی
ماحول پر نظر نہ تھی
نہ [...]

Read Full Post »

وہ بتوں نے ڈالے ہیں وسوسے کہ دلوں سے خوفِ خدا گیا
وہ    پڑی  ہیں   روزِ    قیامتیں   کہ   خیال   روز   جزا     گیا
جو    نفس    تھا   [...]

Read Full Post »

Older Posts »