Feeds:
Posts
Comments

Archive for July, 2007

گلشن یاد میں‌ گر آج دم باد صبا
پھر سے چاہے کہ گل افشاں‌ ہو تو ہو جانے دو
عمر رفتہ کے کسی طاق پہ بسرا ہوا درد
پھر سے چاہے کہ فروزاں ہو تو ہو جانے دو
جیسے بیگانے سے اب ملتے ہو ویسے ہی سہی
آؤ‌ دو چار گھڑی میرے مقابل ہیٹھو
گرچہ مل بیٹھیں گے ہم تم تو [...]

Read Full Post »

مجھے اپنے ضبط پہ ناز تھا سرِ بزم رات یہ کیا ہوا
مری آنکھ کیسے چھلک گئی مجھے رنج ہے یہ برا ہوا
مری زندگی کے چراغ کا یہ مزاج کوئی نیا نہیں
ابھی روشنی ابھی تیرگی، نہ جلا ہوا نہ بجھا ہوا
مجھے جو بھی دشمنِ جاں ملا وہی پختہ کارِ جفا ملا
نہ کسی کی ضرب غلط پڑی، [...]

Read Full Post »

چشمِ نم جانِ شوریدہ کافی نہیں
تہمتِ عشق پوشیدہ کافی نہیں
آج بازار میں‌پا بجولاں چلو
دست افشاں چلو، مست رقصاں چلو
خاک بر سر چلو خوں بداماں چلو
راہ تکتا ہے سب شہرِ جاناں چلو
حاکمِ شہر بھی مجمع عام بھی
تیرِ الزام بھی، سنگِ دشنام بھی
صبح ناشاد بھی روزِ ناکام بھی
ان کا دم ساز اپنے سوا کون ہے
شہرِ جاناں میں‌اب [...]

Read Full Post »

نہ دید ہے نہ سخن، اب نہ حرف ہے نہ پیام
کوئی بھی حیلہِ تسکین نہیں اور آس بہت ہے
امید یار، نظر کا مزاج، درد کا رنگ
تم آج کچھ بھی نہ پوچھو کہ دل اداس بہت ہے

فیض احمد فیض

Read Full Post »

خدا کرے کہ

خدا کرے کہ میری ارض پاک پہ اترے
وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو
یہاں جو بھی پھول کھلے وہ کھلا رہے برسوں
یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو
خدا کرے کہ میرے اک بھی ہم وطن کے لئے
حیات جرم نہ بنے زندگی وبال نہ ہو

آمین

Read Full Post »

ابھی کیا کہیں ابھی کیا سنیں
کہ سر فصیل سکوت جاں
کف روز و شب پہ شرر نما
وہ جو حرف حرف چراغ تھا
اسے کس ہوا نے بجھا دیا
کبھی لب ہلیں گے تو پوچھنا

سر شہر عہد وصال دل
وہ جو نگہتوں‌ کا ہجوم تھا
اسے دست موج فراق نے
تہ خاک کب سے ملا دیا
کبھی گل کھلیں گے تو پوچھنا

ابھی کیا [...]

Read Full Post »

مجھے محسوس ہوتا ہے کہ لطف زندگی کم ہے
غم دل حس سے بڑھ کر ہے میسر اب خوشی کم ہے
اب اس کے بعد جسم و جاں جلنے سے بھی کیا حاصل
چراغوں میں لہو جلتا ہے پھر بھی روشنی کم ہے
جسے بھی دوست سمجھا دشمن ایمان جاں ٹھہرا
نہیں ہے دوستی جس سے اسی سے دشمنی کم [...]

Read Full Post »

یہ کیا کہ سب سے بیاں‌ دل کی حالتیں‌ کرنیں
فراز تجھ کو نہ آئیں محبتیں‌ کرنیں
یہ قرب کیا ہے کہ تو سامنے ہے اور ہمیں
شمار ابھی سے جدائ کی ساعتیں‌ کرنیں
کوئ خدا ہو کہ پتھر جسے بھی ہم چاہیں
تمام عمر اسی کی عبادتیں کرنیں
سب اپنے اپنے قرینے سے منتظر اس کے
کسی کو شکر کسی کو [...]

Read Full Post »

سانس لینا بھی کیسی عادت ہے
جئے جانا بھی کیسی روایت ہے
کوئ آہٹ‌ نہیں‌ بدن میں‌ کہیں
کوئ سایہ نہیں ہے آنکھوں میں
پاؤں بے حس ہیں، چلتے جاتے ہیں
اک سفر ہے جو بہتا رہتا ہے
کتنے برسوں سے، کتنی صدیوں سے
جئے جاتے ہیں…. جئے جاتے ہیں
 

Read Full Post »

جو نہ مل سکے وہی بے وفا
یہ بڑی عجیب سی بات ہے
جو چلا گیا مجھے چھوڑ‌ کر
وہی آج تک میرے ساتھ ہے

کرے پیار لب پہ گلہ نہ ہو
یہ کسی کسی کا نصیب ہے
یہ کرم ہے اس کا جفا نہیں
وہ جدا بھی رہ کر قریب ہے
وہی آنکھ ہے میرے روبرو
اسی ہاتھ میں‌ میرا ہاتھ ہے

میرا نام [...]

Read Full Post »

Older Posts »