Feeds:
Posts
Comments

Archive for August, 2007

نیتِ شوق بھر نہ جائے کہیں
تو بھی دل سے اتر نہ جائے کہیں

آج دیکھا ہے تجھ کو دیر کے بعد
آج کا دن گزر نہ جائے کہیں

نہ ملا کر اداس لوگوں سے
حسن تیرا بکھر نہ جائے کہیں

آرزو ہے کہ تو یہاں آئے
اور پھر عمر بھر نہ جائے کہیں

جی جلاتا ہوں اور سوچتا ہوں
رائیگاں یہ ہنر نہ [...]

Read Full Post »

نثار میں تری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں
چلی ہے رسم کہ کوئ نہ سر اٹھا کے چلے
جو کوئ چاہنے والا طواف کو نکلے
نظر چرا کے، جسم و جاں بچا کے چلے
ہے اہل دل کیلئے اب یہ نظم بست و کشار
کہ سنگ و خشت مقید ہیں اور سگ آزاد
بہت ہیں ظلم کے دست جو کے [...]

Read Full Post »

یہ داغ‌ داغ اجالا، یہ شب گریدہ سحر
وہ انتظار تھا جس کا، یہ وہ سحر تو نہیں
یہ وہ سحر تو نہیں، جس کہ آرزو لے کر
چلے تھے کہ یار کہ مل جائے گی کہیں نہ کہیں
فلک کے دشت میں تاروں کی آخری منزل
کہیں تو ہو گا شب ست موج کا ساحل
کہیں تو رکے گا سفینہء [...]

Read Full Post »

عادتا

عادتا” تم نے کر دئے وعدے
عادتا” ہم نے اعتبار کیا
تیری راہوں میں بار بار رک کر
ہم نے اپنا ہی انتظار کیا
اب نہ مانگیں گے زندگی یارب
یہ گناہ ہم نے اک بار کیا

Read Full Post »

چھوٹی سی غلط فہمی کر دے گی جدا ہم کو
حالات نہ بدلیں گے معلوم نہ تھا ہم کو

رشتوں کی ہمیں اتنی پہچان نہ تھی پہلے
کہنے کو مراسم تو اپنے تھے بہت گہرے
اشکوں کے سوا لیکن کچھ بھی نہ ملا ہم کو

اٹھتے ہوئے قدموں میں زنجیر سی پڑ جاتی
احساس ندامت سے دھلیز پہ گڑ جاتی
اک بار [...]

Read Full Post »