Feeds:
Posts
Comments

Archive for December, 2007

عشق فنا کا نام ہے
عشق میں زندگی نہ دیکھ
جلوہ آفتاب بن
زرُے میں روشنی نہ دیکھ

شوق کو رہنما بنا
جو ہو چکا کبھی نہ دیکھ
آگ دبی ہوئ نکال
آگ بجھی ہوئ نہ دیکھ

تجھ کو خدا کا واسطہ
تو میری زندگی نہ دیکھ
جس کی سحر بھی شام ہو
اس کی سیاہ شوئ نہ دیکھ

جگر مراد آبادی

Read Full Post »

میرے لیے تو حرفِ دعا ہو گیا وہ شخص
سارے دکھوں کی جیسے دوا ہو گیا وہ شخص

میں آسماں پہ تھا تو زمیں کی کشش تھا وہ
اترا زمیں پر تو ہوا ہو گیا وہ شخص

میں اس کا ہاتھ دیکھ رہا تھا کہ دفعتاّ
سمٹا، سمٹ کے رنگِ حنا ہو گیا وہ شخص

پھرتا ہے لے کے آنکھ کا [...]

Read Full Post »

کٹ ہی گئ جدائ بھی کب یوں ہوا کہ مر گئے
تیرے بھی دن گزر گئے میرے بھی دن گزر گئے

تو بھی کچھ اور اور ہے ہم بھی کچھ اور اور ہیں
جانے وہ تو کدھر گیا، جانے وہ ہم کدھر گئے

راہوں میں ہی ملے تھے ہم راہیں نصیب بن گئیں
تو بھی نہ اپنے گھر گیا ہم [...]

Read Full Post »

آج کی رات

آج رات سازِ درد نہ چھیڑ
دکھ سے بھرپور دن تمام ہوئے
اور کل کی خبر کسے معلوم ؟
دوش و فردا کی مٹ چکی ہے حدود
ہو نہ ہو اب سحر، کسے معلوم ؟
زندگی ہیچ ! لیکن آج کی رات
ایز دیت ہے ممکن آج کی رات
آج کی رات سازِ درد نہ چھیڑ
اب نہ دُہرا فسانہ ہائے الم
اپنی قسمت [...]

Read Full Post »

روشن جمال یار سے ہے انجمن تمام
دہکا ہوا ہے آتش گل سے چمن تمام

حیرت غرور حسن سے شوخی سے اضطراب
دل نے بھی تیرے سیکھ لیئے ہیں چلن تمام

اللہ رے جسم یار کی خوبی کہ خود بخود
رنگینیوں میں ڈوب گیا پیراہن تمام

دیکھو تو چشم ِ یار کی جادو نگاہیاں
بے ہوش اک نظر میں ہوئ انجمن تمام

شیرنی [...]

Read Full Post »