Feeds:
Posts
Comments

Archive for January, 2008

چلو زلمت کا یہ اندھا سفر آسان کر جائیں
کسی کے کام آئیں اپنی آنکھیں دان کر جائیں

بہت دن رہ لئے اس جسم میں‌ اب یہ ارادہ ہے
یہ گھر خالی کریں، اس شہر کو ویران کر جائیں

ہم ایسے لوگ ہیں اپنی جدائ کے سمندر میں
ہر اک ساحل کو لے ڈوبیں، نگر سنسان کر جائیں

سوائے اس کے [...]

Read Full Post »

میرا درد نغمہ ِبے سدا
میری ذات زرّہ ِبے نشاں
میرے درد کو جو زباں ملے
مجھے اپنا نام و نشاں ملے
میری ذات کو جو نشاں ملے
مجھے راز نجم جہاں‌ملے
جو مجھے یہ راز ِنہاں ملے
میری خاموشی کو بیاں ملے
مجھے کائنات کی سروری
مجھے دولت ِدو جہاں ملے

فیض احمد فیض

Read Full Post »

دعا

آئیے ہاتھ اٹھائیں ہم بھی
ہم جنہیں رسم ِ دعا یاد نہیں
ہم جنہیں سوز محبت کے سوا
کوئ بت کوئ خدا یاد نہیں

آئیے عرض گزاریں کہ نگار ہستی
زہر ِ امروز میں شیرنی ِ فردا بھر دے
وہ جنہیں تاب ِگراں بری ِایام نہیں
ان کی پلکوں پہ شب ِروز کو ہلکا کر دے

جن کی آنکھوں کو روز ِصبح کا [...]

Read Full Post »

جب تیرا حکم ملا، ترک محبت کر دی
دل مگر اس پہ دھڑکا کہ قیامت کر دی

تجھ سے‌ کس طرح میں اظہار تمنا کرتا
لفظ سوجھا تو معانی نے بغاوت کر دی
میں تو سمجھا تھا کہ لوٹ آتے ہیں جانے والے
تو نے جا کہ جدائ میری قسمت کر دی

مجھ کو دشمن کے ارادوں پہ بھی پیار آتا [...]

Read Full Post »

یہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں‌، یہ لوگوں نے پھیلائ ہیں
تم انشاء جی کا نام نہ لو، کیا انشاء جی سودائ ہیں

ہیں لاکھوں روگ زمانے، میں‌ کیوں‌ عشق ہے رسوا بیچارا
ہیں اور بھی وجہیں وحشت، کی انسان کو رکھتیں دکھیارا
ہاں بے کل بےکل رہتا ہے، ہو پریت میں‌ جس نے جی ہارا
پر شام سے لے کر [...]

Read Full Post »

نہیں منت کش تاب ِ شنیدن داستاں میری
خموشی گفتگو ہے، گفتگو ھے بے زباں میری

یہ دستور ِ زباں بندی ہے کیسا تیری محفل میں
یہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زباں میری

اٹھائے کچھ ورق لالے نے، کچھ نرگس نے، کچھ گل نے
چمن میں ہر طرف بکھری ہوئ ہے داستاں میری

اڑا لی قمریوں نے، طوطیوں نے، [...]

Read Full Post »

آشیانے کی بات کرتے ہو
دل جلانے کی بات کرتے ہو

ساری دنیا کے رنج و غم دے کر
مسکرانے کی بات کرتے ہو

ہم کو اپنی خبر نہیں یارو
تم زمانے کی بار کرتے ہو

زکر میرا سنا تو چیخ کہ کہا
کس دیوانے کی بات کرتے ہو

حادثہ تھا گزر گیا ہو گا
کس کے جانے کی بات کرتے ہو

Read Full Post »

نہ میرے قلم سے لکھی گئ،
نہ میری زباں سے ادا ہوئ

جو نظر سے کہنے کی بات ہے،
کسی حرف میں نہ سمائے گی

کوئ پھول چنتا ہے کس لئے،
کوئ دھول ہوتا ہے کس طرح

یہ وقت وقت کی بات ہے،
تجھے زندگی بتائے گی

Read Full Post »

مسافر تو بدلتے ہیں رفاقت کب بدلتی ہے
محبت زندہ رہتی ہے محبت کب بدلتی ہے

تمہی کو چاہتے ہیں، تمہی سے پیار کرتے ہیں
یہی برسوں سے عادت ہے اور عادت کب بدلتی ہے

تمہیں جو یاد رکھا ہے یہی اپنی عبادت ہے
جو پتھر پہ لکھی جائے عبارت کب بدلتی ہے

کلی کا پھول بننا اور بکھر جانا مقدر [...]

Read Full Post »

تیری قربتیں بھی سراب ہیں یہ بھلا ہوا جو ملیں نہیں
تیری دوریاں بھی عذاب ہیں میری دشتِ جاں سے ٹلی نہیں

کسی آگ نے وہ دھواں دیا ، مجھے دیکھنے بھی کہاں دیا
وہ مسافتوں کا جہاں دیا کہیں راستہ ہے کہیں نہیں

مجھے زندگی وہ دیا لگے کہ ابھی بجھے جو ہوا لگے
کبھی کیا لگے ، کبھی [...]

Read Full Post »

Older Posts »