Feeds:
Posts
Comments

Archive for June, 2008

تجھی سے ابتدا ہے، تو ہی اک دن انتہا ہو گا
صدائے ساز ہوگی اور نہ ساز بے صدا ہو گا
ہمیں معلوم ہے ہم سے سنو محشر میں کیا ہو گا
سب اس کو دیکھتے ہونگے وہ ہم کو دیکھتا ہو گا
جہنم ہو کہ جنت جو بھی ہو گا فیصلہ ہو گا
یہ کیا کم ہے ہمارا اور [...]

Read Full Post »

شاعرِ ِفطرت ہوں میں جب فکر فرماتا ہوں میں
روح بن کر زرے زرے میں سما جاتا ہوں میں
آ کہ تجھ بن اس طرح اے دوست گھبراتا ہوں میں
جیسے ہر شے میں کسی شے کی کمی پاتا ہوں میں
تیری محفل تیرے جلوے پھر تقاذا کیا ضرور
لے اٹھا جاتا ہوں میں لے چلا جاتا ہوں میں
ہائے ر [...]

Read Full Post »

طبیعت ان دنوں بیگانہ ِغم ہوتی جاتی ہے
میرے حصے کی گویا ہر خوشی کم ہوتی جاتی ہے
قیامت کیا یہ اے حسن ِدو عالم ہوتی جاتی ہے
کہ محفل تو وہی ہے دلکشی کم ہوتی جاتی ہے
وہی ہے شاہد و ساقی مگر دل بجھتا جاتا ہے
وہی ہے شمعہ لیکن روشنی کم ہوتی جاتی ہے
وہی ہے زندگی لیکن [...]

Read Full Post »

یہ جو قول و قرار ہے کیا ہے
شک ہے یا اعتبار ہے کیا ہے
یہ جو اٹھتا ہے دل میں رہ رہ کر
ابر ہے یا غبار ہے کیا ہے
زیر لب اک جھلک تبسم کی
برق ہے یا شرار ہے کیا ہے
کوئ دل کا مقام سمجھاؤ
گھر ہے یا رہ گزار ہے کیا ہے
نہ کھلا یہ کہ، سامنا تیرا
دید [...]

Read Full Post »