شاعرِ ِفطرت ہوں میں جب فکر فرماتا ہوں میں
روح بن کر زرے زرے میں سما جاتا ہوں میں
آ کہ تجھ بن اس طرح اے دوست گھبراتا ہوں میں
جیسے ہر شے میں کسی شے کی کمی پاتا ہوں میں
تیری محفل تیرے جلوے پھر تقاذا کیا ضرور
لے اٹھا جاتا ہوں میں لے چلا جاتا ہوں میں
ہائے ر ِی مجبوریاں ترک ِمحبت کے لئے
مجھ کو سمجھاتے ہیں وہ اور ان کو سمجھاتا ہوں میں
ایک دل ہے اور طوفان ِحوادث اے جگر
ایک شیشا ہے کہ ہر پتھر سے ٹکراتا ہوں میں
جگر مراد آبادی