طبیعت ان دنوں بیگانہ ِغم ہوتی جاتی ہے
میرے حصے کی گویا ہر خوشی کم ہوتی جاتی ہے
قیامت کیا یہ اے حسن ِدو عالم ہوتی جاتی ہے
کہ محفل تو وہی ہے دلکشی کم ہوتی جاتی ہے
وہی ہے شاہد و ساقی مگر دل بجھتا جاتا ہے
وہی ہے شمعہ لیکن روشنی کم ہوتی جاتی ہے
وہی ہے زندگی لیکن جگر یہ حال ہے اپنا
کہ جیسے زندگی سے زندگی کم ہوتی جاتی ہے
جگر مراد آبادی