یہ جو قول و قرار ہے کیا ہے
شک ہے یا اعتبار ہے کیا ہے
یہ جو اٹھتا ہے دل میں رہ رہ کر
ابر ہے یا غبار ہے کیا ہے
زیر لب اک جھلک تبسم کی
برق ہے یا شرار ہے کیا ہے
کوئ دل کا مقام سمجھاؤ
گھر ہے یا رہ گزار ہے کیا ہے
نہ کھلا یہ کہ، سامنا تیرا
دید ہے، انتظار ہے کیا ہے