کھلی جو آنکھ تو وہ تھا نہ وہ زمانہ تھا
بہکتی آگ تھی، تنہائ تھی، فسانہ تھا
غموں نے بانٹ لیا ہے مجھے یوں آپس میں
کہ جیسے میں کوئ لوٹا ہوا خزانہ تھا
یہ کیا کہ چند ہی قدموں پہ تھک کے بیٹھ گئے
تمہیں تو ساتھ میرا دور تک نبھانا تھا
مجھے جو میرے لہو میں ڈبو کے گزرا ہے
وہ کوئ غیر نہیں یار اک پرانا تھا
Very good. keep posting poems like this.