میری تصویر میں رنگ اور کسی کا تو نہیں
گھیر لیں مجھ کو سب آنکھیں ، میں تماشا تو نہیں
زندگی تجھ سے ہر اک سانس پہ سمجھوتا کروں
شوق جینے کا ہے مجھ کو ، مگر اتنا تو نہیں
روح کو درد ملا ، درد کو آنکھیں نہ ملیں
تجھ کو محسوس کیا ہے ، تجھے دیکھا تو نہیں
سوچتے سوچتے دل ڈوبنےلگتا ہے مرا
ذہن کی تہ میں مظفر کوئی دریا تو نہیں
مظفر وارثی
اچھا ذوق ہے
میں نے کوشش کی ہے لیکن اپنا موجودہ لنک نہیں دے سکا ۔ ورڈپریس پر میں نے لکھنا بند کر دیا ہوا ہے