تم کو دیکھے ہوئے گزرے ہیں زمانے آؤ
عمر رفتہ کا کوئ خواب دکھانے آؤ
میں سرابوں میں بھٹکتا رہوں صحرا صحرا
تم میری پیاس کو آئنہ دکھانے آؤ
اجنبیت نے کئ داغ دئے ہیں دل کو
آشنائ کا کوئ زخم لگانے آؤ
ملنا چاہا تو کئے تم نے بہانے کیا کیا
اب کسی روز نہ ملنے کے بہانے آؤ