ستارے جو دمکتے ہیں
کسی کی چشم ِحیراں میں
ملاقاتیں جو ہوتی ہیں
جمال ِابر و باراں میں،
یہ نا آباد وقتوں میں
دل ِ ناشاد میں ہو گی
محبت اب نہیں ہو گی
یہ کچھ دن باد میں ہو گی
گزر جائیں گے جب یہ دن
یہ ان کی یاد میں ہو گی
منیر نیازی
ستارے جو دمکتے ہیں
کسی کی چشم ِحیراں میں
ملاقاتیں جو ہوتی ہیں
جمال ِابر و باراں میں،
یہ نا آباد وقتوں میں
دل ِ ناشاد میں ہو گی
محبت اب نہیں ہو گی
یہ کچھ دن باد میں ہو گی
گزر جائیں گے جب یہ دن
یہ ان کی یاد میں ہو گی
منیر نیازی
Posted in Urdu Poetry | Leave a Comment »
چلو زلمت کا یہ اندھا سفر آسان کر جائیں
کسی کے کام آئیں اپنی آنکھیں دان کر جائیں
بہت دن رہ لئے اس جسم میں اب یہ ارادہ ہے
یہ گھر خالی کریں، اس شہر کو ویران کر جائیں
ہم ایسے لوگ ہیں اپنی جدائ کے سمندر میں
ہر اک ساحل کو لے ڈوبیں، نگر سنسان کر جائیں
سوائے اس کے ان سے وقت ِرخصت اور کیا کہتے
ہمارے خواب لوٹا دیں یہی احسان کر جائیں
ہمیں جو جانتے ہیں ان کی حیرت اور بھڑ جائے
نہ جو جانتے ان کو بھی ہم حیران کر جائیں
Posted in Urdu Poetry | Leave a Comment »
میرا درد نغمہ ِبے سدا
میری ذات زرّہ ِبے نشاں
میرے درد کو جو زباں ملے
مجھے اپنا نام و نشاں ملے
میری ذات کو جو نشاں ملے
مجھے راز نجم جہاںملے
جو مجھے یہ راز ِنہاں ملے
میری خاموشی کو بیاں ملے
مجھے کائنات کی سروری
مجھے دولت ِدو جہاں ملے
فیض احمد فیض
Posted in Urdu Poetry | Leave a Comment »
آئیے ہاتھ اٹھائیں ہم بھی
ہم جنہیں رسم ِ دعا یاد نہیں
ہم جنہیں سوز محبت کے سوا
کوئ بت کوئ خدا یاد نہیں
آئیے عرض گزاریں کہ نگار ہستی
زہر ِ امروز میں شیرنی ِ فردا بھر دے
وہ جنہیں تاب ِگراں بری ِایام نہیں
ان کی پلکوں پہ شب ِروز کو ہلکا کر دے
جن کی آنکھوں کو روز ِصبح کا یارا بھی نہیں
ان کی راتوں میں کوئ صبح منور کر دے
جن کے قدموں کو کسی راہ کا سہارا بھی نہیں
ان نظروں پہ کوئ راہ اجاگر کر دے
جن کا دین پری ِو کزبو ریا ہے ان کو
ہمت کفر ملے، جرت تحقیق ملے
جن کے سر منتظر ِتحقیق ِجفا ہیں ان کو
دست ِقاتل کو جھٹک دینے کی توفیق ملے
عشق کا سر ِنہان جان تپان ہے جس سے
آج اقرار کریں اور تپش مٹ جائے
حرف ِحق دل میں کھٹکتا ہے جو کانٹے کی طرح
آج اظہار کریں اور خلش مٹ جائے
فیض احمد فیض
Posted in Urdu Poetry | Leave a Comment »
جب تیرا حکم ملا، ترک محبت کر دی
دل مگر اس پہ دھڑکا کہ قیامت کر دی
تجھ سے کس طرح میں اظہار تمنا کرتا
لفظ سوجھا تو معانی نے بغاوت کر دی
میں تو سمجھا تھا کہ لوٹ آتے ہیں جانے والے
تو نے جا کہ جدائ میری قسمت کر دی
مجھ کو دشمن کے ارادوں پہ بھی پیار آتا ہے
تیری الفت نے محبت مری عادت کر دی
پوچھ بیٹھا ہوں تجھ سے ترے کوچے کا پتہ
تیرے حالات نے کیسی تری صورت کر دی
کیا ترا جسم ترے حسن کی حدت میں جلا
راکھ کس نے تری سونے کی سی رنگت کر دی
احمد ندیم قاسمی
Posted in Urdu Poetry | Leave a Comment »
یہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں، یہ لوگوں نے پھیلائ ہیں
تم انشاء جی کا نام نہ لو، کیا انشاء جی سودائ ہیں
ہیں لاکھوں روگ زمانے، میں کیوں عشق ہے رسوا بیچارا
ہیں اور بھی وجہیں وحشت، کی انسان کو رکھتیں دکھیارا
ہاں بے کل بےکل رہتا ہے، ہو پریت میں جس نے جی ہارا
پر شام سے لے کر صبح تلک، یوں کون پھرے گا آوارا
وہ لڑکی اچھی لڑکی ہے، تم نام نہ لو ہم جان گئے
وہ جس کے لامبے گیسو ہیں، پہچان گئے پہچان گئے
ہاں ساتھ ہمارے انشاء جی، اس گھر میں تھے مہمان گئے
پر اس سے تو کچھ بات نہ کی، انجان رہے انجان رہے
جو ہم سے کہو ہم کرتے ہیں، کیا انشاء کو سمجھانا ہے
اس لڑکی سے بھی کہ لیں گے، وہ اب کچھ اور زمانا ہے
یا چھوڑے یا تکمیل کرے، یہ عشق ہے یا افسانہ ہے
یہ کیسا گورکھ دھندا ہے، یہ کیسا تانا بانا ہے
ابن انشاء
Posted in Urdu Poetry | Leave a Comment »
نہیں منت کش تاب ِ شنیدن داستاں میری
خموشی گفتگو ہے، گفتگو ھے بے زباں میری
یہ دستور ِ زباں بندی ہے کیسا تیری محفل میں
یہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زباں میری
اٹھائے کچھ ورق لالے نے، کچھ نرگس نے، کچھ گل نے
چمن میں ہر طرف بکھری ہوئ ہے داستاں میری
اڑا لی قمریوں نے، طوطیوں نے، عندلیبوں نے
چمن والوں نے مل کر لوٹ لی طرز فغاں میری
ٹپک اے شمع آنسو بن کےپروانے کی آنکھوں سے
سراپا درد ہوں حسرت بھری ہے داستاں میری
الٰہی پھر مزہ کیا ہے یہاں دنیا میں رہنے کا
حیات ِجاوداں میری، نہ مرگ ِناگہاں میری
مرا رونا نہیں، رونا ہے یہ سارے گلستاں کی
وہ گل ہوں میں، خزاں ہر گل کی ہے گویا خزاں میری
علامہ اقبال
Posted in Urdu Poetry | Leave a Comment »
آشیانے کی بات کرتے ہو
دل جلانے کی بات کرتے ہو
ساری دنیا کے رنج و غم دے کر
مسکرانے کی بات کرتے ہو
ہم کو اپنی خبر نہیں یارو
تم زمانے کی بار کرتے ہو
زکر میرا سنا تو چیخ کہ کہا
کس دیوانے کی بات کرتے ہو
حادثہ تھا گزر گیا ہو گا
کس کے جانے کی بات کرتے ہو
Posted in Urdu Poetry | Leave a Comment »
نہ میرے قلم سے لکھی گئ،
نہ میری زباں سے ادا ہوئ
جو نظر سے کہنے کی بات ہے،
کسی حرف میں نہ سمائے گی
کوئ پھول چنتا ہے کس لئے،
کوئ دھول ہوتا ہے کس طرح
یہ وقت وقت کی بات ہے،
تجھے زندگی بتائے گی
Posted in Urdu Poetry | Leave a Comment »
مسافر تو بدلتے ہیں رفاقت کب بدلتی ہے
محبت زندہ رہتی ہے محبت کب بدلتی ہے
تمہی کو چاہتے ہیں، تمہی سے پیار کرتے ہیں
یہی برسوں سے عادت ہے اور عادت کب بدلتی ہے
تمہیں جو یاد رکھا ہے یہی اپنی عبادت ہے
جو پتھر پہ لکھی جائے عبارت کب بدلتی ہے
کلی کا پھول بننا اور بکھر جانا مقدر ہے
یہی قانون فطرت ہے اور فطرت کب بدلتی ہے
جو دل پہ نقش کر جائے اور آنکھوں میں سمٹ آئے
علامت ہے یہ چاہت کی اور چاہت کب بدلتی ہے
اسے چاہا، اسے پوجا، یہی تقدیر ہے اپنی
ہمیں گمراہ مت سمجھو عبادت کب بدلتی ہے
پرانے زخم کو ارشد بھلا دینا ہی اچھا ہے
نہ چاہے آپ ہی کوئ تو قسمت کب بدلتی ہے
Posted in Urdu Poetry | Leave a Comment »