کچھ دن تَو بسو مری آنکھوں میں

کچھ دن تَو بسو مری آنکھوں میں
پھر خواب اگر ہو جاؤ تو کیا

کوئی رنگ تو دو مرے چہرے کو
پھر زخم اگر مہکاؤ تو کیا

جب ہم ہی نہ مہکے پھر صاحب
تم بادِ صبا کہلاؤ تو کیا

اِک آئینہ تھا سو ٹوٹ گیا
اب خود سے اگر شرماؤ تو کیا

تم آس بندھانے والے تھے،
اب تم بھی ہمیں ٹھکراؤ تو کیا

دنیا بھی وہی اور تم بھی وہی
پھر تم سے آس لگاؤ تو کیا

میں تنہا تھا میں تنہا ہوں
تم آؤ تو کیا نہ آؤ تو کیا

جب دیکھنے والا کوئی نہیں
بجھ جاؤ تو کیا گہناؤ تو کیا

اِک وہم ہے یہ دُنیا اس میں
کچھ کھوؤ تو کیا اور پاؤ تو کیا

ہے یوں بھی زیاں اور یوں بھی زیاں
جی جاؤ تو کیا مر جاؤ تو کیا

وعدۂِ حور پہ بہلائے ہوئے لوگ ہیں ہم

وعدۂِ حور پہ بہلائے ہوئے لوگ ہیں ہم
خاک بولیں گے کہ دفنائے ہوئے لوگ ہیں ہم

یوں ہر ایک ظلم پہ دم سادھے کھڑے ہیں
جیسے دیوار میں چنوائے ہوئے لوگ ہیں ہم

اس کی ہر بات پہ لبیک بھلا کیوں نہ کہیں
زر کی جھنکار پہ بلوائے ہوئے لوگ ہیں ہم

جس کا جی چاہے وہ انگلی پہ نچا لیتا ہے
جیسے بازار سے منگوائے ہوئے لوگ ہیں ہم

ہنسی آئے بھی تو ہنستے ہوئے ڈر لگتا ہے
زندگی یوں تیرے زخمائے ہوئے لوگ ہیں ہم

آسمان اپنا، زمیں اپنی، نہ سانس اپنی تو پھر
جانے کس بات پہ اترائے ہوئے لوگ ہیں ہم

جس طرح چاہے بنا لے ہمیں وقت قتیل
درد کی آنچ پہ پگھلائے ہوئے لوگ ہیں ہم

یہ جو دِیوانے سے دو چار نظر آتے ہیں

یہ جو دِیوانے سے دو چار نظر آتے ہیں
اِن میں کچُھ صاحبِ اسرار نظر آتے ہیں

تیری محفل کا بھرم رکھتے ہیں سو جاتے ہیں
ورنہ یہ لوگ تو بیدار نظر آتے ہیں

دُور تک کوئی سِتارہ ہے نہ کوئی جگنو
مرگِ اُمّید کے آثار نظر آتے ہیں

میرے دامن میں شراروں کے سوا کچھ نہیں
آپ پُھولوں کے خریدار نظر آتے ہیں

کل جنہیں چُھو نہیں سکتی تھی فرشتوں کی نظر
آج وہ رونقِ بازار نظر آتے ہیں

حشر میں کون گواہی مِری دے گا ساغر
سب تمہارے ہی طرفدار نظر آتے ہیں

تمام شُد​

وہ درد، وہ وفا، وہ محبت تمام شُد
لے! دل میں ترے قرب کی حسرت تمام شُد
یہ بعد میں کُھلے گا کہ کس کس کا خُون ہوا
ہر اِک بیاں ختم، عدالت تمام شُد
تُو اب تو دشمنی کے بھی قابل نہیں رہا
اُٹھتی تھی جو کبھی وہ عداوت تمام شُد
اب ربط اک نیا مجھے آوارگی سے ہے
پابندیء خیال کی عادت تمام شُد
جائز تھی یا نہیں، ترے حق میں تھی مگر
کرتا تھا جو کبھی وہ وکالت تمام شُد
وہ روز روز مرنے کا قصہ ہوا تمام
وہ روز دِل کو چِیرتی وحشت تمام شُد
“محسن” میں کُنجِ زیست میں چُپ ہوں پڑا
مجنُوں سی وہ خصلت و حالت تمام شُد

مجھ سے اب میری محبت کے فسانے نہ کہو

اپنے ماضی کے تصور سے ہراساں ہوں میں

اپنے گزرے ہوئے ایام سے نفرت ہے مجھے
اپنی بے کار تمناؤں پہ شرمندہ ہوں
اپنی بے سود امیدوں پہ ندامت ہے مجھے
میرے ماضی کو اندھیروں مین دبا رہنے دو
میرا ماضی میری ذلت کے سوا کچھ بھی نہیں
میروں امید کا حاصل، مری کاوش کا صلہ
ایک بے نام اذیت کے سوا کچھ بھی نہیں
کتنی بے کار امیدوں کا سہارا لے کر
میں نے ایوان سجائے تھے کسی کی خاطر
کتنی بے ربط تمناؤں کے مبہم خاکے
اپنے خوابوں میں بسائے تھے کسی کی خاطر
مجھ سے اب میری محبت کے فسانے نہ کہو
مجھ کو کہنے دو کہ میں نے انہیں چاہا ہی نہیں
اور وہ مست نگاہیں جو مجھے بھول گئیں
میں نے ان مست نگاہوں کو سراہا ہی نہیں
مجھ کو کہنے دو کہ میں آج بھی جی سکتا ہوں
عشق ناکام سہی، زندگی ناکام نہیں
ان کو اپنانے کی خواہش، انہیں پانے کی طلب
شوقِ بے کار سہی، سعی غم انجام نہیں
وہی گیسو، وہی نظریں، وہی عارض، وہی جسم
میں جو چاہوں تو مجھے اور بھی مل سکتے ہیں
وہ کنول جن کو کبھی ان کے لئے کھلنا تھا
ان کی نظروں سے بہت دور بھی کھل سکتے ہیں

میں لوگوں سے ملاقاتوں کے لمحے یاد رکھتا ہوں

میں لوگوں سے ملاقاتوں کے لمحے یاد رکھتا ہوں
میں باتیں بھول بھی جاؤں تو لہجے یاد رکھتا ہوں
سرِ محفل نگاہیں مجھ پہ جن لوگوں کی پڑتی ہیں
نگاہوں کے معانی سے وہ چہرے یاد رکھتا ہوں
ذرا سا ہٹ کے چلتا ہوں زمانے کی روایت سے
کہ جن پہ بوجھ میں ڈالوں وہ کاندھے یاد رکھتا ہوں
میں یوں تو بھول جاتا ہوں خراشیں تلخ باتوں کی
مگر جو زخم گہرے دیں وہ رویے یاد رکھتا ہوں

اسے کہنا یہ دنیا ہے

اسے کہنا یہ دنیا ہے
یہاں ہر موڑ پہ ایسے بہت سے لوگ ملتے ہیں
جو اندر تک اترتے ہیں

ابد تک ساتھ رہنے کی
اکھٹے درد سہنے کی
ہمیشہ بات کرتے ہیں

اسے کہنا یہ دنیا ہے
یہاں ہر شخص مطلب کی
حدوں تک ساتھ چلتا ہے
جونہی موسم بدلتا ہے
محبت کے سبھی دعوے
سبھی قسمیں
سبھی وعدے
سبھی رسمیں
اچانک ٹوٹ جاتے ہیں

اسے کہنا
یہ دنیا ہے